Zindagi

 جب کوئی بیٹھ جائے

 زندگی سے ہار کر

 اس کے ضمیر کو جگاؤ

 کوئی تو پکار کر 

نا امیدی کفر ہے 

خود میں سدھار کر 

ایک بار پھر اٹھ 

کشتی کو پار کر

Post a Comment

Previous Post Next Post

Contact Form